کیا خداموجود ہے ؟

کیا خداموجود ہے ؟ اس بات پر ایمان رکھنے کے لیے کہ خدا واقعی موجود ہے ۔ آئیے چھ عام فہم وجوہات پر غور کریں۔

از میر لن ایڈم سن

کیا آپ صرف ایک دفعہ کسی ایک شخص کو خدا کا وجود ثابت کرنے کی اجازت نہ دیں گے ؟ تھوڑی دیر کے لیے اگر آپ کوئی تنقید جملہ ادا نہ کریں۔ کوئی متضاد رائے نہ دیں بلکہ صرف یہ سمجھ لیں کہ آپ نے یقین کرنا ہے ۔ ٹھیک ہے! ذیل میں ایک ایسی کاوش ہے جو صاف گوئی سے چند ایسی وجوہات بیان کرتی ہے جو یہ خیال پیش کرتی ہیں کہ خُدا موجود ہے۔
سب سے پہلے اس بات کو سمجھ لیں ۔ اگر کوئی شخص خدا کی موجودگی کے امکان کی مخالفت کر دیتا ہے تو پھر وہ کسی بھی شہادت کی منطقی بنیادوں پر تردید کر سکتا ہے ۔
اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص اس حقیقت سے انکار کرے کہ لوگ چاند پر پیدل چل چکے ہیںیوں تو اس کی سوچ کو تبدیل کرنے کے لیے جتنی بھی معلومات دی جائے بے سود ہے ۔ پھر تو خلا نوروں کی چاند پر پیدل چلتے ہوئے لی گئی تصاویر ، ان کے ساتھ کی گئی گفتگو ، چاند پر موجود چٹانیں وغیرہ یہ سب شہادتیں بے معنی و بے وجود ہو ں گی کیونکہ وہ شخص تو پہلے ہی طے کر چکا ہے کہ انسان چاند پرنہیں جا سکتا ۔
اسی طرح جب ہم خدا کی موجودگی کے امکان کا تذکرہ کرتے ہیں تو بائبل بیان کرتی ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس معقول شہادتیں ہیں لیکن انہوں نے خدا کے متعلق سچائی کو ضبط کرلیا ہے ۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو خدا کے متلاشی ہیں اگر وہ موجود ہے تو وہ یہ کہتا ہے کہ تم مجھے ڈھونڈو گے اور پاؤ گے ۔ جب تم مجھے سچے دل سے ڈھونڈو گے تو میں تمہیں مل جاؤں گا ۔اس سے پہلے کہ آپ خداکی موجودگی کے متعلق حقائق کو جانیں خود سے یہ سوال پوچھیں ، اگر خدا موجود ہے تو کیا میں اسے جاننا چاہوں گا ؟ اس بات پر غور کرنے کیلئے ذیل میں چند وجوہات دی گئی ہیں ۔

1-کیا خدا موجود ہے ؟ ہمارے سیارے کی پیچیدگی ایک ایسے ماہر کاریگر کی طرف اشارہ کرتی ہے جس نے نہ صرف اس کائنات کو خلق کیا بلکہ اسے آج تک قائم بھی رکھا ۔

خدا کی کاریگری کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں اور شاید ان کی کوئی حدود بھی نہ ہوں لیکن ہم صرف چندایک ذیل میں بیان کرتے ہیں ۔
زمین ....... جس کی جسامت کا مل ہے۔ اس کی جسامت اور اس سے متعلقہ کشش ثقل جو کہ آکسیجن او ر نائٹروجن گیسوں کی دقیق طے ہے۔جو زمین کی سطح سے محض 50میل کی دُوری پر ہے ۔ اگر زمین کی جسامت چھوٹی ہوتی تو اس کا ماحول غیر یقینی ہوتا جیسا کہ عطارد پر ہے ۔اگر زمین کی جسامت زیادہ بڑی ہوتی تو اس کے ماحول میں ہائیڈروجن کی مقدار تجاوز کر جاتی جیسا کہ مشتری پر ہے ۔ زمین ہی وہ واحد تسلیم شدہ سیارہ ہے جس کے ماحول میں انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کو زندہ رکھنے کیلئے گیسوں کے محلول کی درست مقدار موجود ہے ۔زمین سورج سے بالکل درست فاصلے پر واقع ہے۔ جب ہم اس کے درجہ حرارت کے اتار چڑھاؤ پر غور کریں تو وہ عموماً -30سے+120ڈگری کے درمیان رہتا ہے ۔ اگر زمین سورج سے تھوڑا اور دُوری پر ہوتی تو ہم سب منجمد ہو جاتے ۔لیکن اگر سورج کے تھوڑا اور قریب ہوتی تو ہم سب جل جاتے حتی کہ سورج کے مدمقابل زمین کے مقام میں ہلکی سی تبدیلی بھی اس پر زندگی کو ناممکن بنا دیتی ۔ زمین سورج کے گرد 67,000میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر لگاتی ہے اور اس سے بالکل درست فاصلے کو برقرار رکھتی ہے ۔ یہ اپنے مدار میں بھی گھومتی رہتی ہے تاکہ اس کی پوری سطح ہر روز ٹھنڈی او رگرم ہوتی رہے ۔
علاوہ ازیں اگر ہم چاندپر نگاہ کریں تو یہ اپنی کشش ثقل اور جسامت کے اعتبار سے زمین سے بالکل درست فاصلے پر ہے ۔ چاند سمندروں میں مدوجزر پیدا کرتا ہے تاکہ ان کا پانی ساکن نہ رہے ۔ اس کے باوجود دیوہیکل سمندروں کا پانی ہمارے براعظموں پر چڑھائی نہیں کرتا ۔
پانی ......ا گرچہ بے رنگ ، بد ذائقہ اور بے بو ہے پھر بھی کوئی جاندار اس کی عدم موجودگی میں زندہ نہیں رہ سکتا ۔ انسان ،حیوان اور نباتات کا زیادہ تر حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے (جیسا کہ انسانی جسم کا تقریباً دو تہائی حصہ پانی ہے۔ ) ذیل میں آپ دیکھیں گے کہ پانی کی خصوصیات منفرد انداز سے زندگی کے لئے کیوں موزوں ہیں ۔
اس کانقطہ انجماد اور نقطہ پگھلاؤ غیر معمولی طورپر بہت زیادہ ہے ۔ یہ ہمارے جسموں کے درجہ حرارت کو 98.6ڈگری پر قائم رکھ کر ماحول میں حرارت کے اتار چڑھاؤ کے دوران زندہ رہنے میں ہماری مدد کرتا ہے ۔ یہ کائنات کا بہترین محلل بھی ہے ۔پانی کی اس خاصیت کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں کیمیکلز ، معدنیات اور غذائیں ہمارے پورے جسم حتیٰ کہ خون کی خفیف رگوں تک بھی پہنچ سکتی ہے ۔
پانی کیمیائی لحاظ سے غیرجانبدار بھی ہے ۔ پانی، غذا ، ادویات اور معدنیات کی بناوٹ کو بے ترتیب کیے بغیر ہمارے جسم میں اتارتا ہے تاکہ وہ انہیں جذب کر کے استعمال کر لے ۔پانی میں منفرد سطحی منفرد کچھاؤ بھی موجود ہے ۔پانی کشش کے مقابل پودوں میں اوپرکی جانب سرایت کرتاہے تاکہ زندگی اور غذائیت سے بھرپور پانی درختوں کی بلند ترین شاخوں تک بھی پہنچ سکے۔اور پانی سمندروں کے اوپر جم جاتا ہے تاکہ سردی میں اس کے نیچے مچھلیاں زندہ رہ سکیں۔ ایک اندازہ کے مطابق زمین کا ستانوے فیصد پانی سمندروں میں ہے ۔ان سمندروں کا پانی انتہائی کھاری ہوتا ہے لیکن ہماری زمین میں ایک ایسا نظام قائم ہے جو اس پانی میں موجودنمک کو جذب کرکے اسے پوری دُنیا میں تقسیم کر دیتا ہے ۔ آبی بخارات نمک کوالگ کر کے سمندروں میں سے اٹھتے ہیں اورآسمان پر بادل بناتے ہیں۔ہوا ان بادلوں کواڑاتی ہے اور اس کے پانی کو پورے کرہ ارض پر پھیلا دیتی ہے تاکہ یہ سبزیوں ،جانوروں اور انسانوں کے استعمال میں آئے۔ یہ پانی کو پاک کر کے بہم پہنچانے اور بار بار استعمال کرنے کا ایک ایسا نظام ہے جس نے زمین پر انسان کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔
انسانی دماغ....... یکبارگی معلومات کی ایک بھاری مقدارکوآگے پہنچا سکتا ہے ۔ہمارا دماغ ہمارے گرد اشیاء مثلاً ہمارے کی ۔ بورڈ کے رنگوں کو دیکھتا اور آوازوں کوسنتا ہے ۔ ہمارے گرد درجہ حرارت ، ہمارے قدموں کے فرش پرپڑنے کے دباؤ اور ہمارے منہ کے خشک ہونے کو محسوس کرتا ہے ۔ انسانی دماغ ہمارے جذبات ، خیالات اوریادوں کوقابو کرتااور عمل میں لاتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ ہمارے جسم کی حرکت کو بھی رواں رکھتا ہے ۔مثلاً ہماری سانسوں کاچلنا ، آنکھ کی پتلی کی حرکت ، بھوک کا لگنا اور ہمارے پٹھوں کا حرکت کرناوغیرہ ۔
ایک تحقیق کے مطابق انسانی دماغ دس لاکھ سے زائد معلومات کو لمحہ بھرمیں آگے پہنچادیتا ہے یہ اس ساری معلومات کی جانچ کرکے غیر اہم معلومات کو خارج کر دیتا ہے ۔چھلنی (سکر یننگ) کرنے کا یہ عمل آپ کی مدد کرتا ہے تاکہ آپ دُنیا میں بہتر طور سے چلیں اور اس پر غور کریں۔یہ جسم کے دوسرے اعضاء کے مقابلہ میں مختلف طور سے کا م کرتا ہے ۔اس میں وجوہات بیان کرنے ، احساسات پیدا کرنے ، خواب دیکھنے ،منصوبے بنانے ، عمل کرنے اور لوگوں سے تعلقات قائم کرنے کی ایک خاص لیاقت موجودہے ۔
آنکھ ......ا گر جسم کے اس عضو کی بات کی جائے تو یہ ستر لاکھ رنگوں میں امتیاز کرسکتا ہے ۔یہ خود کا ر طریقے سے بغور جائزہ لیتی اور بیک وقت 15لاکھ معلومات کو استعمال میں لاتی ہے ۔ نظریہ ارتقاء زندہ جانداروں کی اندرونی تبدیلی کا قائل ہے ۔یہ نظریہ اس عقیدہ پر قائم ہے کہ جاندار اشیاء بے جان مادہ سے پیدا ہوئیں لیکن یہ نظریہ دماغ او ر آنکھ کے سرچشمہ کو بیان نہیں کر سکتا۔

2-کیا خدا موجود ہے ؟کائنات کا ایک آغاز تو تھا لیکن اس کی وجہ کیا تھی؟

سائنس دان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کائنات کی ابتداء ایک بہت بڑے توانائی اور روشنی کے دھماکے سے ہوئی جسے اب بگ بینگ (بڑادھماکا) کہا جاتا ہے ۔ہر چیز کی ابتداء اس واقعہ سے ہوئی مثلاً کائنات اور خلا کا پیدا ہونااور حتیٰ کہ خود وقت کاآغاز ہونا وغیرہ ۔
طبیعات دان (آسٹروفزسٹ)رابرٹ جیسٹرو جو کہ خودکو ملحد کہتا ہے یہ بیان کرتا ہے ’’ اس کائنات میں جتنے بھی واقعات ہو چکے ہیں ان کا بیج اس پہلے حادثے میں پیدا ہوا۔اس کائنات میں موجود ہر ستارہ ، سیارہ اور ہر جاندار چیزان واقعات سے وجود میںآئی جن کا آغاز اس بڑے دھماکے سے ہوا ۔ آنکھ جھپکتے یہ کائنات وجود میں آگئی لیکن ہم نہیں جانتے اس کی وجہ کیا تھی۔‘‘ ایک اور نوبل انعام یافتہ طبیعات دان سٹیون وین برگ اس دھماکے کے متعلق کہتے ہیں ’’ اس کائنات کا درجہ حرارت ایک سو ہزار دس لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ تھا اور یہ کائنات روشنی سے بھری پڑی تھی ۔‘‘ کائنات ہمیشہ سے موجود نہ تھی ۔ اس کا ایک آغاز تو تھا لیکن اس کی وجہ کیاتھی ؟ سائنس دانوں کے پاس روشنی اور مادے کے اچانک دھماکے کی کوئی وضاحت نہیں۔

3-کیا خدا موجودہے؟ کائنات کا نظام مربوط فطری قوانین کی مدد سے چلتا ہے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

زندگی کا بیشتر حصہ اگرچہ غیر یقینی ہے لیکن آئیے ہم ان باتوں پر غور کریں جن کا ہم ہر نئی صبح مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً کشش ثقل مسلسل جاری رہتی ہے ، میز پر رکھا گیا کافی کاکپ ٹھنڈا ہو جاتا ہے، زمین24گھنٹوں میں ہی اپنا چکر پورا کرتی ہے ،اور روشنی کی رفتار زمین پر یا ہم سے کوسوں دور کہکشاؤں میں یکساں ہے وغیرہ ۔ ہم فطرت کے ان لاتبدیل قوانین کو کیسے پہچان سکتے ہیں ؟ یہ کائنات کیوں اتنی معتبر او رباقاعدہ ہے ؟ یہ اتنا عجیب ہے کہ اس پر عظیم ترین سائنسدان بھی حیرت زدہ ہیں ۔ اس کائنات کو اصولوں پر قائم رہنے کے لیے کسی منطق کی ضرورت نہیں پڑتی اس لئے یہ ریاضی کے اصولوں پر چلنے والوں کوتنہا چھوڑ دیتی ہے ۔ اس معرفت سے حیرانی جنم لیتی ہے کہ کائنات کو ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے ۔ اس کائنات کاتصور کرنا جس کے حالات میں ہر نیا آنے والا واقعہ پیش بینی کی گنجائش کے بغیر تبدیل ہو یا جس میں چیزیں یکایک وجود میں آجائیں قدرے آسان ہے ۔رچرڈ فین مین جو کہ کوانٹم الیکٹروڈ ائنیمکس کی بدولت نوبل انعام یافتہ ہے ۔اس نے کہا ’’ فطرت کا اتنا درست ہونا ایک بھید ہے ۔ قوانین کی موجودگی کی حقیقت ایک قسم کا معجزہ ہے ۔‘‘

4-کیا خدا موجودہے ؟ ڈی ۔ این۔ اے کاکوڈ جو کہ خلیے کے رویے کا نظام بناتا ہے ہمیں خبر دیتا ہے۔

ہدایات ، تعلیمات اور مہارتیں ارادے کانتیجہ ہوتی ہیں ۔اگر کوئی شخص ہدایت نامہ تحریر کرتا ہے تو اس میں اس کا ایک مقصد پنہاں ہوتا ہے ۔ کیا آپ جانتے تھے کہ کمپیوٹر کے کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے پروگرام کی طرح ہمارے جسم پر خلیہ میں بھی تفصیلی ہدایت کا ایک کوڈ موجود ہوتا ہے ؟ شاید آپ کے علم میں ہو کہ کمپیوٹر کا نظام ایک اورصفر کے اعداد پر مبنی ہوتا ہے ۔ مثلاً 110010101011000۔
ان اعداد کی ترتیب سے کمپیوٹر کے پروگرام کو کوئی کام کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے ۔ ہمارے ہر خلیہ میں ڈی ۔ این ۔ اے کوڈ تقریباً یکساں ہوتاہے ۔ یہ چارکیمیائی مادوں سے مل کربنتا ہے ۔ سائنسدانوں نے ان کی اصطلاح مثلاً A,T,Gاور Cبنائی ہے ۔ یہ انسانی خلیہ میں اس طرح تشکیل دیے جاتے ہیں: CGTGTGACTCGCTCCTGATوغیرہ وغیرہ ۔ ہر انسانی خلیہ میں اس طرح کے تین کھرب حروف ہوتے ہیں ۔ جس طرح آپ اپنے فون کو مخصوص وجوہات کے لیے بجنے کی اجازت دیتے ہیں اسی طرح ڈی ۔این ۔ اے خلیے کو ہدایت جاری کرتا ہے ۔ ڈی این اے تین کھرب حروف کا وہ نظام ہے جو خلیے کو مخصوص انداز سے عمل کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ یہ ایک مکمل ہدایت نامہ ہے ۔
یہ اتنا حیران کن کیوں ہے ؟ ہم یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ معلومات کا یہ نظام ہر انسانی خلیہ میں کیسے قائم کیاگیا ؟یہ محض کیمیائی مادے نہیں ہیں۔ یہ وہ کیمیائی مادے ہیں جو ہدایت جاری کرتے ہیں اور اس طرح تفصیلاً درست کوڈ جاری کرتے ہیں جس طرح ایک انسان کے جسم کو بڑھنا چاہئے ۔یہ فطری اور حیاتیاتی اسباب جن میں ایک نظام کے تحت معلومات شامل ہوتی ہیں ، تفصیل پیش کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہوتے ہیں ۔ اگرکوئی اسے دانستہ پیدا نہ کرے تو ہم اس ہدایت کو اتنی مختصر معلومات میں نہیں پاسکتے ۔

5-کیا خداموجود ہے ؟ ہم جانتے ہیں کہ خدا موجود ہے کیونکہ وہ ہمارا تعاقب کرتا ہے وہ ہمیشہ ہماری طرف ہاتھ بڑھاتا اور ہماری تلاش کرتا ہے تاکہ ہم اس کے پاس آئیں ۔

ک وقت تھا کہ میں بے دین تھا اور بہت سے بے دینوں کی طرح لوگوں کا خدا پر یقین کرنے کا معاملہ مجھے بے حد پریشان کرتاتھا ۔ تاہم بے دینوں کوکیا ہوجاتا ہے کہ اپنا بہت سا وقت ،ارادہ اور قوت ایسی بات کو رد کرنے پر صرف کر دیتے ہیں جس کے وجود پر بھی یقین نہیں کرتے۔ کیاوجہ ہے کہ ہم ایسا کرتے ہیں؟ جب میں ایک دین تھا تومیں نے اپنی توجہ غریب اورخیالی لوگوں کویہ احساس دلانے کی فکر میں لگا دی کہ ان کی امید لا حاصل ہے ۔ دراصل میرا اس کے علاوہ بھی ایک مقصدتھا ۔ جب میں خدا پریقین رکھنے والوں کو چیلنج کرتا تو میں بہت زیادہ متجسس تھا کہ وہ بھی مجھے اپنے ایمان پرقائل کریں ۔خدا کے سوال سے بری ہونا میری تلاش کا حصہ تھا۔ ایماندار غلط ہیں اگر میں یہ نتیجہ کے طور پرثابت کر دیتا تو معاملہ الٹ ہو جاتا اور میں پھر آزادی سے اپنی زندگی بسر کرنے لگتا ۔
میں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ خدا کے مضمون کی میرے ذہن پر اتنا زیادہ سوار ہونے کی کیاوجہ تھی کیونکہ خدا اس معاملہ پر زور دے رہا تھا ۔ خداچاہتاہے کہ اس کی تلاش کی جائے۔ میں نے اس بات کو سیکھ لیا ہے ۔اس نے اس ارادہ سے ہمیں خلق کیا کہ ہم اسے تلاش کریں گے ۔ اس نے اپنی شہادتوں سے ہمیں گھیر رکھا ہے اور چاروں اطراف سے وہ اپنے وجود کے سوال کو ہمارے سامنے رکھتا ہے ۔ اسلئے میں خدا کے امکان کے متعلق سوچ سے بھاگ نہ سکا ۔ درحقیقت جس دن میں نے خدا کے وجود کو تسلیم کرنا شروع کیا میری دعا کا آغاز کچھ ایسے ہوا ۔ ’’ ٹھیک ہے ، تو(خدا) جیت گیا ......‘‘ جب بے دین خدا پر ایمان رکھنے والوں کے متعلق پریشان ہوتے ہیں تواس کی ایک اہم وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ خدا مستعدی سے ان کا تعاقب کرتا ہے ۔
صرف میں ہی نہیں جس نے یہ تجربہ کیا ۔میلکم موگرج جوکہ ایک سماجی اور فلسفی مصنف ہے اس نے لکھا ’’ میری جستجو کے علاوہ کسی طرح میرا تعاقب کیا جارہا تھا۔‘‘ سی ۔ ایس لیوس نے کہا کہ اسے یاد آیا ’’ ہر رات جب کبھی میرا ذہن لمحہ بھر کے لئے میرے کام سے فارغ ہوتا تو وہ مسلسل میرا تعاقب کر رہا ہوتا جسے میں بالکل ملنے کی خواہش نہیں رکھتا تھا ۔میں شکستہ ہوگیا اور میں نے یہ قبول کر لیا کہ خدا واقعی خدا ہے ۔ میں گھٹنوں کے بل ہوگیا اورمیں نے دعا کی ۔اس رات برطانیہ میں شاید سب سے شکستہ اور بیدل شخص تبدیل ہوگیا تھا ۔‘‘لیوس نے جب خدا کو جان لیا تو اس نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ’’ خوشی سے حیران‘‘ تھا۔ میرے اندر بھی خدا کے وجود کو مناسب طورسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی توقع نہ تھی ۔ تاہم اس کے بعدکئی مہینوں تک میں اپنے لئے اس کی محبت سے بہت حیران تھا ۔

6-کیا خدا موجود ہے ؟ خداکے متعلق کسی بھی دوسرے مکاشفہ کے علاوہ یسوع مسیح اس کی ایسی مخصوص اور واضح ترین تصویر ہے جس کی مدد سے وہ خود کو ہم پرظاہر کرتاہے ۔

آخر یسوع ہی کیوں ؟ اگر دُنیا کے بڑے بڑے مذاہب پر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ بدھ مت، کنفیوشس اور موسیٰ نے خود کواستاد اور نبی کا لقب دیا ۔ کسی نے بھی خدا کے برابر ہونے کادعویٰ نہ کیا۔ ہم اس بات پر حیران ہونگے کہ یسوع نے ایساکیا۔ یہی وہ خوبی ہے جو یسوع کو دوسرے لوگوں سے منفردبناتی ہے ۔اس نے کہا خدا موجود ہے اور تم اس کی طرف دیکھ رہے ہو ۔جب اس نے اپنے آسمانی باپ سے بات کی تو وہ کسی جدائی کی حالت میں نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ ایک گہرے بندھن میں تھا جس کی وجہ سے وہ انسانوں سے بھی منفرد ہے ۔ یسوع نے کہا جس نے اسے دیکھا اس نے باپ کو دیکھا اور جو اس پر ایمان لایا اس نے باپ پر ایمان رکھا ۔
اس نے کہا میں دُنیا کا نور ہوں جو میرے پیچھے آتا ہے وہ اندھیرے میں نہیں چلتا بلکہ اس میں زندگی کا نور ہے۔اس نے ان اوصاف کا دعویٰ کیا جن کا تعلق صرف خدا سے ہے مثلاً لوگوں کے گناہوں کومعاف کرنا ، گناہ کی عادتوں سے انہیںآزاد کرنا ، لوگوں کو بھرپور ابدی آسمانی زندگی دینا ۔دیگر اساتذہ کے برعکس جو لوگوں کو اپنے الفاظ کی طرف متوجہ کراتے ہیں اس نے لوگوں کواپنی طرف متوجہ کرایا۔ اس نے یہ نہیں کہا ’’ میرے لفظوں کی پیروی کرو تو تم سچائی کو جان لو گے۔‘‘اس نے کہا ’’ راہ اور حق اور زندگی میں ہوں ۔کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا ۔‘‘

یسوع نے اپنی خدائی کے دعوےٰ پر کونسا ثبوت پیش کیا ؟

اس نے وہ کام کیے جو لوگ نہیں کر سکتے ۔ا س نے معجزات دکھائے ، اس نے اندھوں کو آنکھیں، لنگڑوں کوٹانگیں ، بہروں کو کان دیے ۔ بلکہ کچھ لوگوں کومُردوں میں سے بھی جلایا ۔ اسے ہر چیز پرقدرت حاصل تھی ۔ اس نے تھوڑے سے کھانے سے کئی ہزار لوگوں کے ہجوم کا پیٹ بھرا۔ اس نے فطرت پر بھی اپنے معجزات ظاہر کیے ۔ اس نے جھیل پر چل کر دکھایا اور چند احباب کی خاطر طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ لوگ ہر جگہ اس کے پیچھے جاتے کیونکہ وہ معجزات کے ذریعہ ان کی ضروریات کو پورا کرتا رہا ۔ اس نے ان سے کہا کہ اگر تم میری باتوں کایقین نہیں کرتے جو میں تمہیں بتاتاہوں تو کم از کم میرے وسیلہ سے ہونے والے معجزات کا یقین کرو جو تم دیکھتے ہو۔
یسوع نے ظاہر کیاکہ خدا نیک اور محبت کرنے والا ہے ،وہ ہماری خود غرضی اور خامیوں سے واقف ہے لیکن پھر بھی اس کی شدید خواہش ہے کہ ہمارے ساتھ ایک رشتہ قائم کرے ۔یسوع نے یہ بھی ظاہر کیا کہ خدا نے دیکھا کہ ہم گنہگار اوراس کی سزا کے مستحق ہیں تو بھی اس نے اپنی محبت کو بہنے دیا اور ہمارے لئے ایک الگ منصوبہ تیارکیا ۔خدا نے خود انسان کی صورت اختیارکی اور ہماری خاطر ہمارے گناہ کی سزا کو قبول کیا۔ کیایہ مضحکہ خیز نہیں ہے ؟ شاید ! لیکن بہت سے پیارکرنے والے باپ خوشی سے کینسر وارڈ میں اپنے بچے کی جگہ لیٹ جائیں اگروہ ایسا کر سکیں ۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ ہمیں اسلئے اس سے محبت رکھنی ہے کیونکہ اس نے پہلے ہم سے محبت کی ۔
یسوع نے ہماری خاطر اپنی جان دی تاکہ ہم معافی حاصل کریں ۔دُنیا کے سب مذاہب میں سے ہم صرف یسوع میں دیکھتے ہیں کہ خدا انسانوں تک پہنچتا ہے او رانہیں خود تک رسائی حاصل کرنے کا ایک رستہ دکھاتا ہے ۔ یسوع ہماری ضروریات کو پورا کرکے اور ہمیں اپنے قریب لا کر ایک محبت بھرے الٰہی دل کو ثابت کرتا ہے۔ یسوع اپنی موت اور جی اٹھنے کی بدولت آج ہمیں ایک نئی زندگی دیتا ہے۔ ہم معافی حاصل کر سکتے ہیں ، خدا کی نظر میں مقبول ہو سکتے ہیں اور اسکی محبت بھی پاسکتے ہیں۔اس نے کہا کہ اس نے ہم سے ازلی محبت کی اور ہمیشہ اپنی وفاداری ہم پر ظاہر کی ۔یہ خدا کے کام ہیں ۔ کیا خداموجود ہے ؟اگر آپ یسوع مسیح کوجاننا چاہتے ہیں تو بائبل ہمیں بتاتی ہے ’’ خدانے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتابیٹا بخش دیاتاکہ جو کوئی اس پرایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے ۔‘‘
خدا جبراً ہمیں اپنے پیروکار نہیں بناتا اگرچہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔اس کے برعکس اس نے اپنے وجودکے متعلق مقدور بھر شہادتیں مہیا کی ہیں تاکہ ہم اپنی مرضی سے اسکی طرف رجوع کریں مثلاً زمین کا سورج سے درست فاصلہ ،پانی کی منفرد کیمیائی خاصیتیں،انسانی ذہن ، ڈی۔این ۔ اے ، وہ لوگ جنہوں نے خدا کو جاننے کی تصدیق کی ،ہمارے دل ودماغ میں یہ فیصلہ کرنے کی خلش آیا کہ خدا موجودہے اور یسوع کے وسیلہ سے خدا کی مرضی کو جاننا۔ اگرآپ یسوع کی ذات اوراس پر ایمان لانے کے متعلق مزیدملومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تومہربانی سے دیکھئے :اندھے اعتقاد سے پرے ۔

اگر آپ ابھی خدا کے ساتھ ایک رشتہ قائم کرنا چاہتے ہیں توآپ کر سکتے ہیں۔

یہ آپ کا اپنافیصلہ ہے ہم زبردستی ایسا نہیں کرتے۔لیکن اگر آپ واقعی خدا کی بخشش کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ایک رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں تو آپ ابھی ایسا کرسکتے ہیں ۔آپ اس سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ آپ کو معاف کرے اور آپ کی زندگی میںآئے۔ یسوع نے کہا ’’ دیکھ میں دروازہ (آپکے دل کا)پرکھڑا ہوا کھٹکھٹاتا ہوں ۔اگر کوئی میری آواز سن کر دروازہ کھولے گا تو میں اس کے پاس اندر جاؤں گا‘‘ اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کو الفاظ کی شکل نہیں دے سکتے تو پھردرج ذیل الفاظ سے آپ کو مدد مل سکتی ہے :
’’اے یسوع !میرے گناہوں کیلئے مرنے کا شکریہ ! آپ میری زندگی سے واقف ہیں کہ مجھے معافی کی ضرورت ہے ۔میں فریاد کرتاہوں کہ ابھی مجھے معاف کر دیں اور میری زندگی میں آجائیں۔میں آپ کو حقیقی طورسے جاننا چاہتاہوں ۔ اب میری زندگی میں آجائیں ۔ میں آپ کا شکر بجا لاتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ ایک رشتہ قائم کرناچاہتے ہیں ۔ آمین !‘‘
خدا ہمارے ساتھ اپنے بندھن کوابدی حیثیت سے دیکھتا ہے ۔ ان سب کیلئے جو اس پر ایمان لاتے ہیں یسوع نے کہا کہ ’’میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلے ہیں اور میں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گے اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔‘‘
پس ،کیا خدا موجودہے؟ ان سب حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ خدا موجود ہے اور اسے قریب سے شخصی طور پر جاناجا سکتا ہے ۔اگر آپ یسوع کے خدا ہونے کے دعوؤں اور خدا کے وجود کے متعلق مزید جاننا چاہتے ہیں یا آپ کے پاس اسی قسم کے اہم سوال ہیں تو مہربانی سے ہمیں ای ۔میل کیجئے ۔

میں نے ابھی یسوع کو اپنی زندگی میں آنے کی دعوت دی ہے (کچھ مددگار معلومات آگے ہے)۔۔۔

میں یسوع کو اپنی زندگی میں دعوت دینا چاہوں گا۔ مہربانی سے اس کی مزید اور مکمل وضاحت کریں۔۔۔

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔