یسوع اور دُنیا کے مذاہب میں کیا فرق ہے؟

جب آپ اپنے مقصد کو جان لیتے ہیں تو زندگی با معنی ہو جاتی ہے۔

ایک ہتھوڑے کی مثال لیجئے۔ یہ کیلوں کو گاڑنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ یہ اس کام کیلئے خلق کیا گیا ہے۔ اب تصور کریں کہ اس ہتھوڑے کو کبھی استعمال نہیں کیا جاتا۔ یہ ٹول بکس میں پڑا رہتا ہے۔ ہتھوڑے کو اسکی کوئی پرواہ نہیں۔
لیکن اب ذرا سوچئے کہ اسی ہتھوڑے کی روُح ہے اور وہ باشعور بھی ہے۔ کافی دن گزر جاتے ہیں اور وہ ٹول بکس میں ہی پڑا رہتا ہے۔ وہ اندر سے مضحکہ خیز محسوس کرتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہے۔ اس میں کسی چیز کی کمی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے۔
پھر ایک دن کوئی شخص اسے ٹول بکس میں سے باہر نکالتا ہے اور اسے کچھ لکڑیاں توڑنے کیلئے استعمال کرتا ہے تا کہ آتشدان میں جلا سکے۔ ہتھوڑے کو بہت خوشی ہوتی ہے ۔ ہتھوڑا یہ پسند کرتا ہے کہ اسے پکڑا جائے ، چلایا جائے اور لکڑیوں پر مارا جائے۔ تاہم کام کے ختم ہو جانے پر وہ پھر بھی اندر سے خالی ہے۔ لکڑی پر مارا جانا اس کے لئے خوشی کا باعث تھا لیکن یہ کافی نہ تھا۔ اب بھی اس میں کسی چیز کی کمی تھی۔
آنے والے دنوں میں اسے اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ پہیے کی تار کو مروڑتا ہے، لکڑی کی چادر کے دو ٹکڑے کرتا ہے اور میز کی ٹانگ کو مار کر ٹھیک کرتا ہے۔ پھر بھی وہ اندر سے خالی ہے۔ پس وہ مزید حرکت کی تمنا کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے چیزوں کو پھاڑنے ، توڑنے ، ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور ٹیڑھا کرنے کیلئے جتنا زیادہ ممکن ہو استعمال کیا جائے وہ یہ حساب لگاتا ہے کہ اس کی تسلی کیلئے اُسے اس طرح کے موقعوں پر کافی استعمال نہیں کیا گیا۔ مزید وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اُس کے خالی پن کی وجہ یہی ہے۔
پھر ایک دن کوئی اُسے کیل پر استعمال کرتا ہے۔ اچانک اس ہتھوڑے کی روُح روشنی سے بھر جاتی ہے ۔ اب اُس کی سمجھ میں آیا کہ درحقیقت اُسے کس کام کیلئے بنایا گیا تھا۔ اسے کیل ٹھونکنے کیلئے بنایا گیا۔ موازنہ کے طور پر اسے دوسری چیزوں پر مارا جانا اہم نہ تھا۔ اب وہ جان لیتا ہے کہ اس کی روح کس چیز کی تلاش میں تھی۔
ہم خُدا کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کیلئے اسکی شبیہ پر پیدا ہوتے ہیں۔ اس رشتے میں پیوست ہونا ہی بالآخر ہماری روحوں کیلئے اطمینان بخش ہوتا ہے ۔ خُدا کو جاننے سے پہلے ہم نے بہت شاندار تجربات حاصل کیے لیکن ہم نے کبھی کیل کو نہیں ٹھونکا تھا۔ ہمیں بہت سے نیک کاموں کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کیلئے نہیں جس کیلئے ہم بالآخر بنائے گئے تھے اور نہ ہی اس کیلئے جس کے ذریعہ سے ہم بے حد بھر جاتے ہیں۔ آگسٹن اس پیرائے میں اس کالب لباب بیان کرتا ہے: ’’تو [ خُدا] نے ہمیں اپنے لئے بنایا ہے اور ہمارے دل اس وقت تک بے قرار رہتے ہیں جب تک تجھ میں آرام نہ ڈھونڈ لیں‘‘۔ صرف خُدا کے ساتھ رشتہ ہی ہماری روُح کی پیاس بجھائے گا۔
یسوع نے کہا ، ’’زندگی کی روٹی میں ہوں ۔ جو میرے پاس آئے وہ ہرگز بھوکا نہ ہو گا اور جو مجھ پر ایمان لائے وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا‘‘۔ جب تک ہم خُدا کو نہیں جانتے ہم زندگی میں بھوکے اور پیاسے ہیں۔ ہم ہر طرح کی چیزیں کھاتے اورپیتے ہیں تا کہ زندگی کی بھوک اور پیاس مٹائیں لیکن پھر بھی بھوکے اور پیاسے رہ جاتے ہیں۔
ہم ہتھوڑے کی مانند ہیں۔ ہم یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ہماری زندگیوں میں کمی کس چیز کی ہے اور ہمارا خالی پن کیسے ختم ہو گا۔ نازی جیل کیمپ میں بھی کوری ٹِن بوم نے خُدا کے مکمل اطمینان کو پا لیا: ’’ہماری خوشی کی بنیاد یہ تھی کہ ہم مسیح کے ساتھ خُدا میں پوشیدہ ہیں اور ہم خُدا کی محبت پر ایمان رکھ سکتے ہیں جو گہری تاریکیوں سے زیادہ مضبوط چٹان ہے‘‘۔
عموماً ہم خُدا کو دور کر کے اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں اپنی تکمیل کو تلاش کرتے ہیں لیکن ان چیزوں کو مکمل طور پر حاصل نہیں کر پاتے ہم اس غلط سوچ پر زیادہ سے زیادہ ’’کھاتے‘‘ یا ’’پیتے‘‘ رہتے ہیں کہ زیادہ کھانا ہمارے مسائل کا حل ہے لیکن پھر بھی ہم آسودہ نہیں ہوتے۔
ہماری سب سے بڑی خواہش خُدا کو جاننا اور اس کے ساتھ ایک رشتہ قائم کرنا ہے۔ کیوں؟کیونکہ اسی لئے ہمیں خلق کیا گیا ہے۔ کیا آپ نے ابھی تک کیل کو ٹھونکا ہے؟

خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کیسے کریں؟

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔