×  
تلاش  
‎خُدا اور زندگی کے متعلق سوالات کو تلاش کرنا
زندگی پر سوالات

کروناوائرس (کوویڈ-19) کی گھبراہٹ سے کس طرح نمٹیں؟

کورنا وائرس یا کسی بھی طرح کی پریشانی یا گھبراہٹ ، تناؤ سے نمٹنیں کا طریقہ۔۔۔

PDF

میرلین ایڈمسن کی طرف سے،

بہت سے لوگوں کیلئے کرونا وائرس (کوویڈ-19) نے تشویش ناک حالات پیدا کیئے۔ اِس کے پھیلاؤ نے بہت سے ممالِک کو اپنی لپیٹ میں لیا اور بڑی تعداد میں لوگوں کی اموات اِ س کی فہرست میں شامل ہوئیں۔

تاہم، ہوسکتا ہے آپ کسی اور خطرے کی وجہ سے بھی گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار ہوں گے۔ روزانہ ہم کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں جس سے ہم ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اِس کی ایک لمبی فہرست ہے۔ دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلیاں، نسل پرستی، جنگیں، حکومتی بے قائدگی،غربت، جنسی تشدد، انسانی غلامی، قدرتی آفات،ذاتی مالی مسائل،بیماری، نوکری کا تحفظ،ذہنی تناؤ سےبھرپور ریشتے،بُری عدت کی لت ،وغیرہ۔

اِن سب چیزوں کو ترطیب دینا اورتصور میں لانا بھی درد ناک ہے۔

ہمیں تو اب اِس بات کا پتہ بھی نہیں کے ہم پر کیا چیز زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔ انٹرنیٹ نے ہمیں عالمی شہری بنا دیا ہے۔ ہم دُنیا کے ہر کونے سے... ہر روز ... ہر منٹ میں سنگین مسائل سے واقف ہوتے ہیں۔ خبری ذرائعے ہمارے خوف کو اور بڑھاوا دیتے ہیں۔ انسان کی نرم دلِی کی وجہ سے ہماری توجہ کو ایسی تشویش ناک خبریں فوراً کھنچتی ہیں۔ تاہم، پریشانی کا زیادہ سبب ہمارے ذاتی مسائل ہیں اور یہ وہی ہوتے ہیں جو ہماری زندگی میں چل رہا ہوتا ہے۔

یہ جیسے ڈبو دینے والا احساس ہوتا ہے کہ ہمارا ایسے حالات پر کوئی قابو نہیں ہے۔ یہ احساس دیلا تاہے کے ہم خطرناک حالات میں ہیں۔ بے اختیار، بے بس۔ یہ ایسا ڈر ہے جس سے ہمیں لگتا ہے کے ہمارے ساتھ کچھ ہونے والا ہے اور ہم اِس سے بھی بھاگ نہیں سکتے نہ اِسے بدل سکتے ہیں۔

جب ہم ایسے حالات میں پھنس جائیں ، توکیا کوئی سکون پانے کا کوئی راستہ ہے؟ جی ہاں

کورونا وائرس کے اِن حالات میں اطمینان۔

یہ مضمون آپ کو بتائے گا کے کورونا وائرس یا دوُسرے بُرے اور مشکل حالات میں آپ کیسے حقیقی اطمینان حاصل کر سکتے ہیں۔

پہلے توں یہاں ایک لفظ شامل کرتے ہیں ادویات کے بارے میں۔اگر آپ اکثر گبھراہٹ کا شکار رہتے ہیں اور آپ کا یہ ڈر آپ کو ذہنی تناؤ اور خود کو نقصان دینے والی سوچوں کی طرف لے جا رہا ہے، تو برائے مہربانی کیسی اچھے ڈاکٹر سے روجو کریں یا طبی مدد حاصل کریں۔ یہ کوئی کیمیائی عدم توازن ہوسکتا ہے جس میں ادویات کی ضرورت ہوتی ہے کئی با ر ہمارے دماغ میں راستے یا نقشے ہوتے ہیں جن کو طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ سوُچ کے نئے راستے بنا سکیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شوگر کے مریض انسولین لگاتے ہیں۔ ایسی ادویات ہیں جو آپ کو خداشات کا بعغور معائینہ کرنے کے قابل بناتی ہیں تو ذیادہ پُر سکون رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ ادویات نے بہت سے پریشان لوگوں کی زندگیوں کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔

تاہم ،حالات کابعغور جائزہ ہمارے مسئلے کے حل کا ایک حصہ ہے۔یہ مددگار ہوتا ہے، پر یہ حقیقی اطمینان دینے میں کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کیسی آدمی کی ٹانگ ٹوٹ جائے اور وہ اُس سے تھوڑا چل بھی پائے، یہ ٹھیک ہے پر ابھی بھی اُس کی ٹانگ ٹوٹی ہی ہے۔

آپ یہ جان پاتے ہیں کے آپ کے مُلک میں کرونا وائرس اتنا مہلک نہیں ہے، یہ اچھا ہےپر اِس کے علاوہ اور بہت سی پرشانیاں ہیں

جو ذہنی دباؤ کاباعث بنتی ہیں۔ زندگی مشکل ہے۔ جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ ایک اندرونی اطمینان ہے جو پائیدار ہو ، جو آپ کے دماغ اور دل کو مشکل حالات کے باوجود آرام کرنے کی اجازت دیتا ہو۔

پریشانی کی صورتحال میں قابل اعتماد نقطہ نظر۔

ملحد کی حیثیت سے کئی سالوں سے ، میں نے ایک ایسا فلسفہ تلاش کیا جو ہمیشہ قابل اعتماد ہوتا ہے۔ میں ایک ایسا نقطہ نظر چاہتی تھی جو زندگی بھر میری رہنمائی کرے ، اور کسی بھی حالت میں "کام" کرے۔ میں نے سارتر ، افلاطون ، سقراط ، دوستوفسکی ، نِٹشے ، ہیوم ، اور اس کے بعد مزید تعلیم حاصل کی۔

مجھے جو پتہ چلا وہ یہی ہے کے فلسفہ نا کافی تھا اور تمام مسائل ابھی بھی میرے کندھوں پر ہی تھے ۔

کچھ لوگوں نے مشورہ دیا ، حالات کو مختلف طرح سے دیکھو۔ اپنے آپ سے کہو کہ' یہ اتنا بھی بُرا نہیں،، کرونا وائرس (کوویڈ-19) کو مختلف طور سے دیکھنا مشکل ہےجبکہ ہزاروں لوگ اِس میں مبتلہ پائے گئے اور حالاکتوں کی تعدادبڑھتی جارہی ہے۔

کسی بھی صورتحال کے باوجود حقیقی امن کی تلاش میں ، مذہب بھی بالکل خالی معُلوم ہوا۔ میں رسومات ، مراقبہ ، عقائد کی تلاش میں نہیں تھی۔

میں جانتی تھی ممکنات کو جو اصل زندگی میں مشکلات کیلئے ہوتی ہیں ، میں جاننا چاہتی تھی ایک ایسے وسیلے کو جو بھروسے کے لائق ہو اِس سے قطع نظر کے زندگی میں کتنی بھی مشکلات آئیں۔

بہت سے لوگ اُمید کر رہے ہیں کے سائنس کرونا وائرس کا علاج اور اِس کی روک تھام کا طریقہ ڈھونڈ لے گی۔ تاہم جیسے دوُسرے وائرسسز کے بارے ہوا۔ ممکن ہےکہ یہ ہمارے ساتھ تبدیل شُدہ اشکال میں سالوں تک رہے، سائنس ابھی سب نہیں جانتی اور نہ ہی ساری قوت کا سر چشمہ ہے۔

جب کے میں سکون کا حتمی ذریعہ ڈھونڈ رہی ہی تھی کہ، پھر میری کیسی ایسے سے دوستی ہوگئی جسکی زندگی کی میں تعاریف کرتی تھی۔ وہ اکثر خُدا کے بارے میں بات کرتی تھی۔ اُس نے مجھے خُدا کی موجودگی کے بارے میں حیرت میں مبتلہ کر دیا۔

خُدا کی موجودگی کے امکان نے مجھے سوال پوچھنے، تحقیق کرنے اور مضبوطی سے دفع کرنے کے عمل میں داخل کر دیا۔آخری چیز جو تھی وہ یہ تھی کے میں بےوقوف بننا چاہتی تھی ایک ایسی چیز کیلئے جو حقیقت میں تھی ہی نہیں۔

سائنس نے ایک حل کی طرف اشارہ دیا۔

ایک سال بعد اور ایک سلسیلے کے ثبوتوں کی آدھی تحقیق کے بعد خُدا کے وجود کے ہونے کا وزن نظر انداز کرنے کے لئے بھاری ہوگیا۔ یہ سائنس ہی تھی جو مجھے خُدا کے وجود کو تسلیم کرنے کی طرف لے گئی۔۔۔ جیسے کے زمین کے سُورج کے گرِد بلکل ٹھیک جگہ پر ہونا، پانی کی پیچیدہ خصوصیات ، انسانی جسم کا ڈیزائن وغیرہ۔

مجھے معلوم ہوا کہ واقعی ، "خُدا ہماری پناہ اور طاقت ہے ، اورمصُیبت میں دستیاب مدد ہے۔ "1،

ڈر کا سامنا کرتے ہوئے اطمینان۔

یہ جانتے ہوئے کے خُدا کا وجود ہے اور وہ ہماری فکر کرتا ہے یہ ہماری صلاحیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے کہ ہم اطمینان میں رہیں چاہے حالات کچھ کیسے بھی ہوں۔مجھے یہاں وضاحت کا موقع دیں۔

ایک 8 سالہ چھوٹے لڑکے کو تصور کریں جسے ہراساں کیا گیا ہے۔اُس کا دوُپہر کا کھانا ہر روز چھینا جاتا ۔ اُسے دھکے مارے گئے اور مذاق اُڑایا گیا۔وہ غصے سے بات کرنے کی کوشیش کرتا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوتا۔اُس نے یہ نظر انداز کرنے کی کوشیش بھی کی لیکن ناکام ہوا۔ اُس نے اپنے اُستاد کو بتایا، یہ بھی زیادہ کام نہ آیا۔

ایک دِن ایک بڑا طالبِ علم (اُن اوباش لڑکوں سے بڑا)اندر آیا اور اُن اوباش لڑکوں سے کہا کے اُن کے ڈرانے دھمکانے کے دِن اب ختم ہوئے۔زیادتی سہنے والے لڑکے کو اطمینان ہوا۔ وہ اوباش ابھی بھی وہیں موجود تھے۔لیکن وہ آٹھ سالہ لڑکا اب چین سے رہ سکتا تھا کیونکہ اب اُس سے بڑا کوئی اُس کی حفاظت، دیکھ بھال کیلئے موجود تھا۔

ہمیں بھی زندگی میں ایسی ہی دیکھ بھال کی پیشکش کی گئی ہے۔خُدا ہمارے سامنے آنے والی کسی بھی مشکل سے بڑا ہے، اِس وبائی وائرس سمیت۔ اُس نے ہمیں بنایا ہے اور وہ چاہتا ہے کے ہماری حفاظت کرے۔

اِس وائرس کے وقت امن۔

زندگی کے اِس تناؤ کے درمیان ، یسُوع ہمیں نرمی سے کہتا ہے، " کہ اے بوُجھ کے تھکے ماندھو، میرے پاس آؤ میں تمہیں آرام دوں گا۔ "2،

یہ خُدا ہے جس نے اِس کائنات کو بنایا اور کہکشاوں، ستاروں، سیاروں کو بنایا۔اربوں زندگیاں، پودوں کی اقسام ، موسمیاتی نظام اورانسانی زندگی۔ " اُس کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔وہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم مدد کیلئے اُس کے پاس آئیں۔"3،

یسُوع نے ہمیشہ خُدا کو ہمارا "آسمانی باپ" اور محبت کرنے والا بتایا ہے۔

کرونا وائرس کی بیماری میں ہمارا سب سے بڑا ڈر یہی ہے کہ ہمیں اکیلے اِس سے گزرنا ہوگا، یا اپنے یا اپنے پیاروں کی طرف سے جذباتی یا جسمانی طاقت کا نہ ہونا۔ یہ سچائی ہے اِن سبھی چیزوں کیلئے جو ہمیں ڈرا سکتی ہیں۔ "کیا ہم اِس قابل ہو سکتے ہیں"

مشکل وقت سے مقابلہ کرتے ہوئے قوت۔

خُدا ،جس نے آپ کو بنایا ہے، سب جانتا ہے۔ آپ کا پسِ منظر، واقعات جو آپ کے ساتھ پیش آئے۔کامیابیاں، خواب(یا اِس کی کمی) جو آپ نے اپنی زندگی کیلئے دیکھے ہیں۔آپ کا درَد ، ریشتے،مستقبل اور سبھی کچھ۔یسُوع نے کہا، وہ آپ کی زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی جانتا ہے اور یہاں تک کے آپ کے سر کے بال بھی گنے ہوئے ہیں۔"4،

" اے خُدا تو نے میرے دِل کو پرکھ کیا اورمیرے بارے میں سب جانتا ہے۔ تومیرا اُٹھنا بیٹھنا جانتا ہے،تو میری سوچوں کو جانتا ہے جبکہ میں تجھ سے کتنا ہی دوُر کیوں نہ ہوں۔۔۔ تو میرے سب ا عمال کو جانتا ہے۔ میرے بولنے سے پیشتر تو جانتا ہے کے میں کیا بولنے والا ہوں۔۔۔"5،

وہ آپ کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔اِس دُنیا میں سب سے محفوظ ریشتہ جو ہو سکتا ہے وہ خُدا کے ساتھ ہمارا ریشتہ ہے، جو ہم سے محبت کرتا ہے۔

اندھیرے میں رہنمائی۔

خُدا کبھی نہیں چاہتا تھا کے ہم اِس زندگی کی مشکلات سے اکیلے ہی لڑتے رہیں۔ خُدا ہماری رہنمائی کرنا چاہتا ہے ایک مختلف زندگی کو پانے کیلئے جس میں اُس کی راہنمائی ہو۔ ہمیں غیر یقینی حالات میں اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

یسُوع نے کہا،"کہ میں دُنیا کا نور ہو۔ جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نا چلے گابلکہ زندگی کا نور پائے گا۔"

وہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ، "ہم اُس پر اپنی ساری فکریں ڈال دیں کیونکہ اُس کو ہمارا خیال ہے۔"7،

یہی ہے وہ چیز جیسے خُدا کے ساتھ ریشتے میں ہونا کہتے ہیں اور وہ ہمیں اِس کی دعوت دیتا ہے۔ بائبل خُدا کو حیرت انگیز صلاح کار ، لازوال باپ ، امن کا شہزادہ اور طاقت ور خُدا کی حیثیت سے بیان کرتی ہے۔ اور وہ سب کچھ ہے۔

مُصبت سے آزادی۔

ایسے وقت میں ہمیں یہ سمجھنے کی بھی ضررورت ہے کے خُدا کے ساتھ ریشتے میں رہنے کا یہ مطلب نہیں کے ہم زندگی کی پریشانیوں سےنہیں گزریں گے۔میری زندگی میں ایک وقت ایسا آیا جب مجھے کسی ایسے واقعے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں، میں کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ حمل کے چوتھے مہینے میں،مجھے بتایا گیا کے آپ کے ساتھ کچھ مسائل در پیش ہیں۔تب میں خُدا کو اچھی طرح جانتی تھی اور اُس پر بھروسہ کرتی تھی چاہے نتیجا کچھ بھی ہوتا۔ ہمارا بچہ پیدا ہوا اور اُس میں کوئی حرکت نہ تھی۔کیونکہ میرا پورا بھروسہ خُدا پر تھا اسیلئےمیں انتہائی دُکھ میں مبتلہ ہو گئی۔ پر بھر بھی میں غصے، تلخی یااضطراب میں نہیں رہی۔

تاہم، میرے اندر ایک ایسا جزبہ آ گیا جس نے مجھے حیرت سے دوچار کر دیا ۔ہمارے بچے کی موت کے بعدمیں نے اپنے شوہر کے مرنے کے امکان پر خوف کے ساتھ جدوجہد کرنا شروع کردی۔میں خُدا سے کہا ، کہ مُجھے دیکھائے کے میں کیسے اِس خوف کو صحیح طور سے سمجھوں۔میرا جواب جلد ہی آیا جب خُدا نے مجھے زبور میں سے اس بیان کی طرف راغب کیا:

"پر تو اے خُداوند! میری پناہ ہے، تو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔تجھ پر کوئی آفت نہ آئے گی اور کوئی وبا تیرے خیمے کے نزدیک نہ پہنچے گی۔"9، میں جانتی تھی کے خُدا نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا کے کوئی کبھی نہیں مرے گا۔ پر خُدا جو میری پناہ گا ہے، جس پر میرا بھروسہ ہےحتہ کے میرا خاوند بھی مر جائے تو۔ "خُدا میری زندگی میں کسی بُرائی کو آنے کی اجازت نا دے گا، خُدا اُس کو میرے اُوپر حاوی نا ہونے دے گا، مجھے تباہ نہ ہونے دے گا،مجھے کوئی نقصان نہ ہوگا، میں ٹھیک رہوں گی۔

"تجھ پر کوئی آفت نہ آئیگی اور کوئی وبا تیرے خیمے کے نزدیک نہ پہنچے گی۔"

کوئی بھی مشکل بڑی نہیں ہے، حتہ کے کرونا وائرس بھی نہیں۔

یسُوع نے کہا، "دُنیا میں تمہیں مشکلات کا سامنا کرنے پڑے گا، مگر خوشی کرو کیونکہ میں دُنیا پر غالب آیا ہوں۔" 10، یہ دُنیا جس پر ہم ہیں ۔ اِس وقت ہیں۔ 10000میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔(1600 کلو میٹرفی گھنٹہ)۔ پھر بھی ہم بڑا سکون محسُوس کرتے ہیں۔طلوع آفتاب کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور پھر غروب آفتاب زمین کے چکر کو پورا کرتا ہے۔زمین بھی سُورج کے گرِد گھوم رہی ہےاور 67000 میل فی گھنٹہ سورج کے گرِد سفر کرتی ہے اتنی تیز رفتار ہوتے ہوئے بھی یہ سُورج سے اپنے فاصلے کو برقرار رکھتی ہےنا ہی یہ فاصلہ کم ہوتا ہے نہ زیادہ۔

اِسی وقت کے دوران، خُدا دوُسری تمام دُنیاؤں کے بارے میں بھی باخبر ہوتا ہے۔اور خُدا آپ کی زندگی کی بھی چھوٹی سے چھوٹی معلومات کو جانتا ہے وہ آپ سے پیار کرتا ہے۔

کوئی ایسا جو ہماری فکر کرتا ہے۔

وہ ہم سے پیار کرتا ہے اسلیئے نہیں کے آپ اور میں اِس کے مستحق ہیں بلکہ اِسلیئے کے پیار کرنا اور خیال رکھنا اُس کی فطرت ہےاُن کیلئے جو اُس پر بھروسہ کرتے ہیں۔

خُدا کہتا ہے، "تو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں؛ ہراساں نہ ہو کیونکہ میں تیرا خُدا ہوں۔میں تجھے زوربخشوں گا،میں یقیناً تیری مدد کروں گااور میں اپنی صداقت کے دھنے ہاتھ سے تجھے سنبھال لوں گا۔"12،

"کیا تم نے نہیں سنا؟ کیا تم نے نہیں سمجھا؟ خُداوند خُدا ابدی خُدا ہے اور وہ ساری دُنیا کا خالق ہے۔وہ کمزور نہیں اور نا تھکتا ہے۔کوئی بھی اس کی تفہیم کی گہرائی کی پیمائش نہیں کرسکتا ہے۔ وہ کمزوروں کو طاقت دیتا ہے اور بے اختیاروں کو اختیار ۔

یہاں تک کہ ،" نوجوان بھی تھک جائیں گے اور ماند ہونگےاور سورما گرِ پڑیں گے۔لیکن خُداوند کا انتظار کرنے والے اسرِنو زور پائیں گے، وہ عقاب کی مانند بال و پر سے اُڑیں گےوہ دوڑیں گے اور نہ تھکیں گےوہ چلیں گے اور نہ ماندہ ہونگے۔"13،

یسُوع نے کہا، " میں تمہیں اپنا اطمینان دیتا ہوں۔ اُس طرح نہیں دیتا جس طرح دُنیا دیتی ہےتمہارا دِل نا ڈرے اور نا گھبرائے،"14، وہ ہر اُس مشکل سے بڑا ہے جس کا ہم سامنا کرتے ہیں۔

کرونا وائرس کے ڈر سے آزادی اور کسی بھی طرح کی بڑی مشکل سےآزادی ،یہ جاننے میں ہے کے خُداہماری فکر کرتا ہے اور وہ ہر مشکل پر قادر اور اُس سے ہمیں نکالنے کے قابل ہے۔

اگر آپ خُدا کی محبت کو اور اُس سے ریشتہ بنانے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو نیچے دیا گیا لنِک اِس میں آپ کی مدد کرے گا۔

 اگر آپ کوئی سوال پوچھنا یا اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں۔
 خُدا کو کیسے جانیں ۔۔۔

فوٹ نوٹس:
(1) زبور 46: 1 (2) میتی 11: 28 (3) یرمیاہ 32:17 (4) لوقا 12: 7 (5) زبور 139: 1-4 (6) یوُحنا 8:12 (7) 1 ۔پطرس 5: 7 (8) خروج (9) زبور 91: 9،10 (10) یوحنا 16:33 (11) کو خروج (12) اشعیا 41:10 (13) اشعیا 40: 28-31 (14) یوُحنا 14:27


اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔